بغداد،17؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)عراقی کردوں کی ملیشیا ’’البیشمرکہ‘‘کے ایک یونٹ نے عراقی شہر موصل کے مشرق میں داعش کے ہاتھوں سے آزاد کروائے جانے والے نواحی دیہات مِیں سے ایک گاؤں قرقش کے گھروں میں مورچے سنبھال لئے ہیں۔البیشمرکہ فورسز کی جانب سے اس پیشقدمی کا مقصد ہے کہ موصل کو داعش سے آزاد کروانے کے آخری معرکے کی تیاری کی جاسکے۔ یاد رہے کہ دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' پچھلے دو سالوں سے عراقی شہر موصل پر قابض ہے۔اس ہفتے کے دوران داعش سے واگزار کروائے جانے والے تمام دیہات کی طرح قرقش بھی ایک چھوٹا سا گاؤں ہے اور اس میں شہریوں کی انتہائی قلیل تعداد موجود ہے۔ شہریوں کی انتہائی کم تعداد میں موجودگی کی وجہ سے امریکی اتحاد نے فضائی حملوں کی مدد سے تیزی کے ساتھ علاقے کو خالی کروالیا اور گلی گلی معرکے کی صورتحال سے جلدی معاملات حل کر لئے۔ مگر اس کے باوجود بیشمرکہ فورسز کی قیادت کا کہنا ہے کہ ان دیہات کا قبضہ حاصل کرنے کے دوران ان کی فورسز کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔صرف قرقش گاؤں ہی میں بیشمرکہ کے اندازوں کے مطابق انہوں نے 10جنگجوؤں کو کھو دیا ہے۔ پیر کے روز آپریشن کی تکمیل کے اعلان کے بعد بھی کسی کسی جگہ لڑائی مسلسل جاری ہے۔فوجی ذرائع کے مطابق 48گھنٹوں پر محیط اس آپریشن جیسے کئی اور آپریشنز کا سہارا لے کر عراق میں داعش کے آخری گڑھ موصل کو گھیرے میں لے لیا جائے گا۔